10 دسمبر 2010 - 20:30

"شمر بن ذی الجوشن" لعین نے کام تمام کرنے کی غرض سے پیدل فوج کو لے کر فرزند رسول(ص) پر حملہ کیا؛ آپ(ع) کو گھیرے میں لیا اور چاروں طرف سے امام پر حملہ کیا۔ عبداللہ بن حسن مجتبی(ع) خیموں میں سیدانیوں کے ساتھ تھے مگر ان سے اپنے عم بزرگوار کی تنہائی نہ دیکھی گئی اور سیدانیوں کے منع کرنے کے باوجود اچانک خیموں سے نکل کر امام حسین(ع) کے حضور پہنچے۔

آج کی رات اور آنے والی کل کی رات ہم سرور جوانان بہشت، سبط اکبر حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کے مہمان ہیں جن کے دو فرزند قاسم اور عبداللہ بن حسن کربلا میں حاضر تھے اور دونوں نے اپنے عم بزرگوار اور اپنے زمانے کے امام، حسین بن علی علیہماالسلام کے رکاب میں جام شہادت نوش کیا ہے۔ عبداللہ بن حسن(ع) امام حسن مجتبی(ع) کے چھوٹے اور نابالغ فرزند تھے جو خاندان رسول(ص) کے دیگر افراد کے ہمراہ انقلاب عاشورا میں شرکت کے لئے کوفہ کی جانب آئے تھے مگر انہیں کربلا لے جایا گیا تھا۔ عاشورا (دس محرم الحرام) کی صبح سے لے کر عصر تک، ابتداء میں اصحاب امام حسین(ع) اور ان کے بعد اہل بیت کے افراد ایک ایک کرکے یا دستوں کی صورت میں میدان کارزار میں اترے اور شہید ہوئے؛ آخر کار وہ وقت بھی آن پہنچا جب فرزند رسول(ص) ہزاروں مسلح دشمنوں کے بیچ تنہا اور بالکل اکیلے رہ گئے۔ اور حریت پسند انسانوں کو ابد تک آزمائش میں ڈالنے والے استغاثے کا وقت آن پہنچا "ہل من ناصر ینصرنی؛ ہل من معین یعیننی؛ ہل من مغیث یغیثنی؛ ہل من ذابّ یذب عن حرم رسول اللہ(ص)؟"کیا ہے کوئی ناصر جو میری نصرت کو آئے؟کیا ہے کوئی مدد کرنے والا جو میری مدد کرے؟کیا ہے کمک پہنچانے والا کوئی جو مجھے کمک پہنچائے؟کیا ہے کوئی دفاع و تحفظ کرنے والا جو رسول اللہ کے خاندان کا تحفظ کرے؟یہ صدا ابدی صدا ہے جو ہر زمانے میں لبیک گو مسلمانوں کا انتظار کررہی ہے؛ امام حسین(ع) پانی مانگنے کے لئے نہیں بلکہ لبیک سننے کے لئے کربلائے معلی کے مسافر بن گئے ہیں کیا ہے کوئی جو لبیک یا حسین کہہ کر حسینی راستے پر گامزن ہو؟کربلا پر جب ہر طرف اہل بیت اور اصحاب اہل بیت کے پھول چٹیل میدان پر کھِل گئے تو امام حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے اور صدائے ہل من ناصر سننے والوں نے اس صدا کو خاموش کرنے کا ارادہ کیا۔"شمر بن ذی الجوشن" لعین نے کام تمام کرنے کی غرض سے پیدل فوج لے کر فرزند رسول(ص) پر حملہ کیا؛ آپ(ع) کو گھیرے میں لیا اور چاروں طرف سے امام(ع) پر حملہ کیا۔ عبداللہ بن حسن مجتبی(ع) خیموں میں سیدانیوں کے ساتھ تھے مگر ان سے اپنے عم بزرگوار کی تنہائی نہ دیکھی گئی اور سیدانیوں کے منع کرنے کے باوجود اچانک خیموں سے نکل گئے۔ سیدہ ثانی زہراء(س) نے اپنے بھتیجے کو پکڑ لیا اور انہیں میدان میں اترنے سے باز رکھنے اور اپنے بھائی حسن مجتبی(ع) کی یادگار کو یزیدی بھیڑیوں کا شکار ہونے سے بچانے کی کوشش کی؛ لیکن عبداللہ نے کہا: "نہیں، خدا کی قسم میں اپنے چچا کو تنہا نہیں چھوڑوں گا"۔ عبداللہ نے اپنا ہاتھ پھوپھی کے ہاتھ سے چھڑالیا اور میدان کی طرف دوڑے اور امام حسین(ع) کے پاس پہنچے تا کہ اپنے ننھے سے جسم کے ساتھ مولا حسین(ع) کا دفاع کریں۔یہ وہ وقت تھا جب امام حسین(ع) شدید زخمی ہوکر زمین پر بیٹھے تھے اور یزیدی لشکر نے آپ(ع) کا محاصرہ کرلیا تھا۔ ایک شقی یزیدی آیا اور تلوار اٹھا کر ابن زہراء(س) کے زخمی پیکر کو نشانہ بنانا چاہا تو عبداللہ نے اپنا ننھا منھا ہاتھ آگے بڑھایا تا کہ تلوار کی ضرب راکب دوش رسول(ص) کے جسم مبارک کو نہ لگے۔ تلوار نہایت تیز تھی اور وار بہت بھاری تھا چنانچہ جب رسول اللہ(ع) کے نونہال اور ریحانةالرسول امام حسن مجتبی(ع) کے جگرگوشے عبداللہ کا ہاتھ کٹ کر بدن سے لٹک گیا۔ یتیم آل رسول عبداللہ نے شدت درد سے اپنے بابا کو آواز دی: "وا ابتاہ..."۔اب آپ خود تصور کریں کہ امام حسین(ع) کا کیا حال ہوا ہوگا جن کے پاس بھائی حسن(ع) کی دو امانتیں تھیں قاسم اور عبداللہ، قاسم پہلے ہی شہید ہوچکے تھے اور اب عبداللہ بھی شہید ہورہے تھے اور آپ(ع) اس صورت حال کا مشاہدہ کررہے تھے۔ ایک فارسی شعر کے بقول:

اشك و خون از ديدہ‌اش بر خاك ريختاشك بر آن كودكِ بي‌باك ريخت

ترجمہ:

امام کی آنکھوں سے اشک و خون زمین پر جاری ہواآپ (ع) نے اس ندر بچے پر آنسو بہائے

امام حسین(ع) نے اپنے زخمی بھتیجے کو آغوش میں لے لیا اور سینے سے ملاکر ان کے کان میں ارشاد فرمایا: "پیارے بھتیجے! صبر کرو اور خدائے بزرگ و برتر کو صدا دو تا کہ وہ تمہیں اپنے صالح و نیکوکار آباء و اجداد سے ملحق فرمائے"۔شاعر نے یہ واقعہ امام حسین(ع) کی زبان حال میں یوں بیان کیا ہے:

آن برادرزادہ‌ام صد چاك شداين برادرزادہ‌ام بر خاك شدآن برادرزادہ‌ام سرمست رفتاين برادرزادہ‌ام بي‌دست رفت

ترجمہ:

میرے اس بھتیجے کے سوتکرے کئے گئے میرا یہ بھتیجا بھی خاک پر گرگیامیرا وہ بھتیجا عشق سے سرمست ہوکر گیااور یہ بھتیجا بے دست ہو کر چلا گیا

امام حسین(ع) دست بدعا ہوئے اور اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا: "خداوندا! اگر تو نے مقدر فرمایا ہے کہ اس قوم کو ایک عرصے کے لئے زندہ رکھنا مقدر فرمایا ہے تو انہیں شدید تفرقہ اور انتشار سے دوچار فرما... کیونکہ انھوں نے مجھے دعوت دی اور میری نصرت کا وعدہ دیا مگر ہم یہاں آئے تو ہم پر حملہ آور ہوئے اور ہمیں قتل کردیا"۔ شاعر کہتے ہیں:

بستہ شد چشمش، ولي لب باز شدآخرين نجواي شہ آغاز شدكاي خدا گر چہ مرادت حاصل استديدن مرگ يتيمان مشكل استدر رہ تو ہستي‌ام از دست رفتحيف شد، عبداللَہم از دست رفتاين دو بر من، روح پيكر بودہ‌انديــادگــاران بــرادر بـــودہ‌اند

ترجمہ:

مولا کی آنکھیں بند ہوئیں اور لب وا ہوئےشہ کے آخری نجوی کا آغاز ہواکہ اے خدا! اگرچہ تیری مراد حاصل ہوئی لیکنیتیم بچوں کی موت دیکھنا مشکل ہےتیری راہ میں میری ہستی قربان ہوگئیافسوس کہ میرا عبداللہ بھی میرے ہاتھ سے نکل گیایہ دو (قاسم اور عبداللہ) میرے پیکر کے لئے روح تھےیہ دونوں میرے ماں جائے (حسن(ع)) کی یادگار تھے

رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد ابھی صرف 50 برس کا عرصہ گذرگیا تھا لیکن نہ جانے امت کی قساوت قلبی یہاں تک کیسے پہنچی کہ شامی تیرانداز ـ گویا حرملہ بن کاہل اسدی ملعون ـ نے عبداللہ کا پھول سا بدن اپنے سہ شعبہ تیر کا نشانہ بنایا؛ تیر عبداللہ کے گلے کو لگا اور گلا کٹ گیا اور یوں عبداللہ بن حسن(ع) امام حسین(ع) کے دامن میں ہی ذبح ہوگئے۔

الا لعنة اللہ علی القوم الظالمين ؛ و سيعلم الذين ظلموا أي منقلب ينقلبون۔

....................اصلی مآخذ:1۔ سيد بن طاووس ؛ اللہوف في قتلی الطفوف ؛ قم: منشورات الرضي، 1364 ۔ 2۔ شيخ عباس قمي ؛ نفس المہموم ؛ ترجمہ و تحقيق علامہ ابوالحسن شعراني ؛ قم: انتشارات ذوي‌القربی، 1378 ۔ 3۔ فارسی اشعار، زبان حال کے زمرے میں آتے ہیں اور ان کی کوئی سندیت نہیں ہے۔ ان اشعار کا مأخذ: (جزوہ آموزشي آداب مرثيہ‌خواني با عنوان طنين عشق ؛ تہيہ و تنظيم مرتضی وافي ؛ قم: انتشارات شفق، 1380)۔